منگلورو:20/مئی (ایس اؤنیوز)لکھنؤ میں رازدارانہ طورپر ہلاک ہوئے آئی اے ایس آفیسر انوراگ تواری کی ہلاکت کے متعلق ریاستی حکومت ہر سطح کی جانچ کے لئے تیار ہے ، ریاستی حکومت کے خلاف جوالزامات عائد کئے جارہے ہیں وہ صرف اور صرف سیاسی پس منظر اور بے بنیاد ہونے کا ریاستی کابینہ کےوزیر برائے غذاسپلائی یوٹی قادر نے پریس کانفرنس میں خیال ظاہرکیا۔
کرناٹکا کے محکمہ غذا اور عوامی سپلائی میں کمشنر کے عہدے پر فائز انوراگ تواری 4جنوری سے 132دنوں تک محکمہ میں تھے، ان میں سے صرف 37دن ہی خدمات انجام دئیے ہیں، اس سے قبل وہ بیدر ضلع میں بطور ڈپٹی کمشنر کے خدمات انجام دے رہے تھےاور اسی طرح اترپردیش کے انتخابات کے دوران بھی انہوں نے اپنے فرائض کوانجام دیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے 5تاریخ تک چھٹی مانگی تھی ، جب کہ ان کی موت اترپردیش کے سرکٹ ہاؤس کے قریب ہونےکی بات کہی جارہی ہے اور ان کی ہلاکت کے بعد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد الزامات ہیں، اس کے باوجود حزب مخالف پارٹیاں ایک افسر کی موت کو لے کر سیاست کررہے ہیں۔ افسر کی موت کو لے کر مرکزی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سی بی آئی کی جانچ کرے ،وہاں کی ریاستی حکومت کو قتل کیسے انجام دیا گیا کے متعلق کارروائی کرنا ہے۔ باقی ریاستی حکومت معاملے کی جانچ کے لئے ہرطرح سے تعاون کرنےتیار رہنے کی بات یوٹی قادر نےکہی۔
محکمہ غذا سپلائی میں کوئی گھپلہ نہیں ہواہے، اس سلسلے میں جو الزامات لگائے جارہے ہیں ان کا کوئی تُک نہیں ہے ، ریاست سے 7آئی اے ایس افسران اترپردیش روانہ ہونے کی جانکاری قادر نے دی۔ پریس کانفرنس میں پردیش کانگریس کمیٹی کے بی نارائن راؤ، منگلورو تعلقہ پنچایت صدر محمد معینو، ضلع کانگریس لیڈر ٹی کے سدھیر وغیرہ موجود تھے۔